سفیان بن اسید حضرمی نے کہا کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی بات کہو اور وہ تماری بات کو سچ سمجھے ، حالانکہ تم نے جو بات اس سے کہی وہ جھوٹی تھی۔ (ابوداؤد)
مذاق میں جھوٹ: نبیﷺ نے فرمایا: خرابی اور نامرادی ہے اس شخص کے لیے جو جھوٹی باتیں اس لیے کہتا ہے تاکہ لوگوں کو ہنسائے۔ خرابی ہے اس کے لیے ، خرابی ہے اس کے لیے۔ (ترمذی عن بہزبن حکیم)
جنت میں مدارج:
رسول ﷺ نےفر مایا: جو شخص مناظرہ بازی نہ کرے گا اگرچہ وہ حق پر ہو، تو میں اس کے لیے جنت کے گوشوں میں ایک گھر کا ذمہ لیتا ہوں ، اور جو جھوٹ نہ بولے اگرچہ ہنسی کے طور پر ہی کیوں نہ ہو، میں اس کے لیے جنت کے وسط میں ایک گھر کا ذمہ لیتا ہوں، اور جو اپنے اخلاق کو بہتر بنا لیے تو میں اس کے لیے جنت کے سب سے اونچے حصے میں گھر کا ذمہ لیتا ہوں۔ (ابو داؤد عن ابو امامہؓ)
ناظمہ اعلیٰ بیان پاکستان کے وجود میں آنے کا واقعہ تمام ممالک سے بہت مختلف ہے۔ اس کے وجود کی بنیاد اس کی نظریاتی اساس ہے۔ اور اس کی نظریاتی اساس اسلام ہے۔ ان خیالات کااظہار اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کی ناظمہ اعلیٰ نے 23 مارچ کے حوالے سے اپنے ایک خصوصی بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کی ضرورت مسلمانوں کو اس لیے محسوس ہوئی کہ وہ ایک ایسی سرزمین کا حصول چاہتے تھے، جہاں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قوانین بغیر کسی روک ٹوک اور ہچکچہاہٹ کے نافذ ہو سکیں، اور جہاں وہ اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی شعار کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال سکیں۔ نا ظمہ صو بہ پنجا ب محتر مہ عا ئشہ حمیرا نے23 مارچ کے تا ریخی دن کے مو قعہ پر اپنے خےالات کا ا ظہا ر کر تے ہوئے کہا کے وطن عزیز کو اس وقت اندرونی اور بیرونی خطرا ت کا سا منا ہے جس سے نپٹنے کا بہترین حل اسلام کے اصولوں پر عمل ہے کیوں کے اسی میں ہما ری نجا ت پنہا ں ہے۔ ناظمہ صوبہ سندھ محترمہ فرح ناز صا حبہ نے23 مارچ کے دن کے حوالے سے کہا کے ہمیں اپنے اسلاف کی محنتوںاور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہے۔ہما رے بزرگوں نے بہت جدوجہد کے بعد یہ وطن حا صل کیا ہے ا س لئے اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ وطن عز یز کو دشمنوں کی چا لوں سے بچا نے کے لئے آپس میں امن و اتحا د کے ساتھ رہیں تاکہ کوئی اس کی طرف میلی آ نکھ سے دیکھنے کی جرات بھی نہ کر سکے۔ نا ظمہ صو بہ کشمیر محتر مہ عا ئشہ طیبہ نے23 مارچ کے دن کے مو قعہ پر اپنے خےالات کا ا ظہا ر کر تے ہوئے کہا انہوں نے کہا کے دشمن ہر وقت اس کو شش میںہے کے اسلا م کی بنیا د پر بنے والے اس ملک کا امن و سکون تباہ کر دے ر کہا رب العالمین پا کستا ن اور اس میں بسنے واے لوگوں پر اپنی رحمت خا ص ر کھے اور اس کو امن کا گہوا رہ بنا دے ۔آمین
ناظمہ صوبہ سرحد محترمہ حسینہ شاہ نے23 مارچ کے دن کے حوالے سے کہا کے اس وطن کو حا صل کرنے کا مقصد ایک خطہ زمیں کا حا صل کر لینا نہیں تھا بلکہ یہاں ا لٰہی قوا نین کو نا فذ کر کے دنیا کے سا منے اسلام کی بنیا دوں پر قائم ایک عملی نمو نہ پیش کرنا تھا ۔مگر ہم شا ئید پا کستا ن کے مقصد کو بھلا کر دشمن کی ریشہ دوانیو ں میں کم ہو چکے ہیں۔اس لئے ہمیں اس کے قیام کے مقصد کو دہرا لینے کی ضرورت ہے۔یر دکھائیں۔
اسلامی جمیعت طالبات کی ناطمہ اعلیٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں وطن عزیز جن بحرانوں، بیرونی خطرات ، اندرونی خلفشار سے دو چار ہے ، جس کا حل اسلامی نظام کا قیام اور قرآن وسنت کی پیروی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام اور پاکستان کی بدنامی کا بے حس محاذ چند متشدد سیاسی گروہوں کا اپنے خیالات اور پالیسی کو بزور نافذ کروانے کی کوشش ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرتی تضاد اور معاشرے میں فساد مزید بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ ڈاکٹر صدف نذر نے کہا کہ مخالف اسلامی گروہوں کی جارحانہ حکمت و عملی اور ان کے ساز گار وں کی معاونت سے اسلام اور پاکستان کے خلاف ایک فضاءقائم ہو گئی ہے۔ جسے عالمی کفر کا میڈیا مسلسل ہوا دے رہا ہے۔ بد قسمتی سے مسلم ممالک کا میڈیا اس یلغار کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور دہشت گردی اس کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔
اسلام کے نفاذ کے لیے تشدد کی راہ اپنانا محض حقیقی اسلامی تعلیمات سے لاعلمی اور دین سے دوری کی علامت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ قرآن وسنت سے تعلق مضبوط بنایا جائے اور درست اسلامی تعلیمات سے آشنا ہوا جائے۔انہوں نے میڈیا کے ذمہ داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مغرب کی تقلید اور امریکا کی پیروی چھوڑ کر غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کریں اور عوام دوست تصویر دکھائیں۔
حضورﷺ کی ذات اقدس تمام نوع انسان کے لیے منبع و رحمت ہے۔ ہر کلمہ گو اپنے اندر عشق رسول کی والہانہ تڑپ اور عقیدت کے جذبات رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ حرمت رسول پر جان تک کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کی ناظمہ اعلیٰ ڈاکٹر صدف نذر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کیا۔
آج دشمنوں کی جرا¿ت اہل اسلام اور حکمرانوں کی کمزوری ہی توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت کا باعث بنی ہے۔ آج دشمنوں کی جرا¿ت مسلمانوں کی کمزوری کی علامت ہے۔ ڈاکٹر صدف نذر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام تر سیاسی و مذہبی جماعتوں، حکمرانوں ،عوام، ذات پات اور فرقہ و ارادیت کے سحر سے آزاد ہوکر حرمت رسول کے تحفظ کو اپنا فرض اولین سمجھتے ہوئے دشمنوں کواس حرکت کا منہ توڑ جواب دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کی ناروے کی سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور ناروے کی تمام تر سفارتی، تجارتی اور سیاسی تعلقات منقطع کئے جائیں۔ مزید توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جائے۔
عافیہ صدیقی کو مجرم ثابت کرکے امریکا نے انصاف کی دھجیاں بکھیر دیں اور اس کا متعصب چہرہ اور اسلام دشمنی ایک مرتبہ پھر عیاں ہو گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی جمعیت طالبات کی ناظمہ اعلیٰ ڈاکٹر صدف نذر نے امریکا کی عدالت کی جانب سے پاکستان کی مظلوم بیٹی عافیہ صدیقی کو مجرم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف بیان دیتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو امن و انصاف اور جمہوریت کا سبق دینے والے امریکا نے پاکستان کی ہونہار بیٹی کواپنے تعصب اور انا کی بھینٹ چڑھا دیا۔ جس کی رہائی امریکا کے امن پسند مہذب ہونے کے داعوے کو بے نقاب کرکے اس کے مظالم کا پردہ چاک کر دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ پاکستانی حکمرانوںکے منہ پر طمانچہ ہے جو امریکا وفاداری میں اپنی عزت و حمیعت سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں۔
اسلامی جمعیت طالبات کے چالیسویں سالانہ اجتماع کے موقع پر اسلامی جمعیت طالبات جدہ کی سابقہ ناظمہ کرن صبیحہ نے شرکت کی۔ انہوں نے پاکستان جمعیت میں اپنی شمولیت اور اجتماع میں موجودگی پر خوشی کا اظہار کیا۔ شرکائے اجتماع نے ان کو خوش آمدید کہا۔